خوش آمدیددعازبور

زبور 17 – ایک بےقصور آدمی کی دُعا

زبور 17: ” اَے خُداوند! حق کو سُن۔ میری فریاد پر تُوجہ کر۔ میری دُعا پر جو بے ریا لبوں سے نکلتی ہے کان لگا۔ میرا فیصلہ تیرے حضُور سے صادر ہو تیری آنکھیں راستی کو دیکھیں۔ تُو نے میرے دِل کو آزما لیا ہے۔ تُو نے رات کو میری نگرانی کی۔ تُو نے مجھے پرکھا اور کچھ کھوٹ نہ پایا۔ میں نے ٹھان لیا ہے کہ میرا مُنہ خطا نہ کرے۔ انسانی کاموں میں تیرے لبوں کے کلام کی مدد سے میں ظالموں کی راہوں سے باز رہوں۔

میرے قدم تیرے راستوں پر قائم رہے ہیں۔ میرے پاؤں پھسلے نہیں۔ اَے خُدا! میں نے تجھ سے دُعا کی ہے کیونکہ تُو مجھے جواب دیگا۔ میری طرف کان جھُکا اور میری عرض سُن لے۔ تُو جو اپنے دہنے ہاتھ سے اپنے توکل کرنے والوں کو اُنکے مخالفوں سے بچاتا ہے اپنی عجیب شفقت دِکھا۔ مجھے آنکھ کی پُتلی کی طرح محفوظ رکھ۔ مجھے اپنے پروں کے سایہ میں چھپا لے۔ اُن شریروں سے جو مجھ پر ظلم کرتے ہیں میرے جانی دُشمنوں سے جو مجھے گھیرے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے دِلوں کو سخت کیا ہے۔

وہ اپنے مُنہ سے بڑا بول بولتے ہیں۔ اُنہوں نے قدم قدم پر ہمکو گھیرا ہے۔ وہ تاک لگائے ہیں کہ ہمکو زمین پر پٹک دیں۔ وہ اُس ببر کی مانند ہے جو پھاڑنے پر حِریص ہو۔ وہ گویا جوان ببر ہے جو پوشیدہ جگہوں میں دبکا ہوا ہے۔ اُٹھ اَے خُداوند! اُس کا سامنا کر۔ اُسے پٹک دے۔ اپنی تلوار سے میری جان کو شریر سے بچالے۔ اپنے ہاتھ سے اَے خُداوند! مجھے لوگوں سے بچا۔ یعنی دُنیا کے لوگوں سے جنکا بخرہ اِسی زندگی میں ہے اور جنکا پیٹ تُو اپنے ذخیرہ سے بھرتا ہے۔ اُنکی اَولاد بھی حسبِ مُراد ہے۔ وہ اپنا باقی مال اپنے بچوں کے لئے چھوڑ جاتے ہیں۔ پر میں تو صداقت میں تیرا دیدار حاصل کُرونگا۔ میں جب جاگونگا تو تیری شباہت سے سیر ہونگا”۔ آمین!

 


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

زبور 16 - اعتماد کی دُعا

Next post

زبور 18 - داؤد کا فتح کا گیت

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.