بلاگخوش آمدید

اِسلام میں غیر مسلمانوں کا درجہ

آج کے دور میں ہم اِسلامی دُنیا کی جو سب سے بڑی تصویر دیکھتے ہیں وہ ظالمانہ، پرتشدد اور بس فریب ہے۔ وہ مسلمان جو مغرب میں رہتے ہیں وہ ہر جگہ اِسلام کو ایک امن پسندہ مذہب ظاہر کرواتے ہیں اور وہ قرآن کے بارے میں مکمل طور پر مختلف نقطہ نظریہ ظاہر کرتے ہیں کہ اصل میں وہ کیا کہتا ہے۔ وہ قرآن کی آیات کو بدلتے اور گھوماتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ “حقیقت میں اِس کا ترجمہ مختلف ہے”۔ وہ دفتروں میں کمپیوٹروں کے پیچھے بیٹھ کر صرف غیر مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں اور عملی طور پر کچھ بھی نہیں کرتے۔ اگر وہ حقیقت میں لوگوں کے حقوق کا دفاع کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اُنہیں لوگوں کے زندہ رہنے کے حقوق کا دفاع کرنا چاہیے اور اُنہیں مرنے نہیں دینا چاہیے۔

اِسلامی حکومت نے ہمیشہ غالب آنے، تشدد کرنے، ظلم کرنے اور قتل کرنے کے ذریعے قبضہ کرنا چاہا۔ تو اِس سے ایسا لگتا ہے کہ اِسلام ایک زہر ہے اور اِس کا مقصد تباہی کرنا ہے کہ جب بھی اِسے حکومت کرنے کا موقع ملے۔ اِسلام میں غیر مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری سمجھا جاتا ہے اور چاہے جتنا بھی کوئی آزاد خیال مسلمان اِسے نظرانداز کرنے کی کوشش کرے، وہ اپنے بدلے کے تحت غیر مسلمانوں کے خلاف ایک فرق رکھتے ہیں۔ قرآن مجید مکمل طور پر اِن باتوں کو بیان کرتا ہے:

“اے ایمان والو یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے اُن کو دوست بنائے گا وہ بھی اُنہیں میں سے ہوگا بیشک خُدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا”۔

(سورۃ 5 آیت 51)۔

“تو جو ہماری یاد سے روگردانی اور صرف دُنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اُس سے تم بھی منہ پھیر لو”۔

( سورۃ 53 آیت 29)۔

غیر مسلمانوں پر ظلم اور قتل کا بڑھنا کچھ لوگوں کی طرف سے قرآن کی صرف غلط تشریح نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد اِسلام کی تعلیمات کی بنیاد پر ہے۔ آئی ایس آئی اِسلام کے سچے راستے کی پیروی کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ جس میں غیر مسلمانوں سے چوری کرنا شامل ہے، یہودیوں اور اُن شیطانی لوگوں کے سر قلم کرنا ہے جو امن کے مخالف ہیں۔ اِسلام بنیاد پرستی اور اُس حد تک نفرت کرنا سیکھاتا ہے کہ جو اُنہیں غیر مسلمانوں کے ساتھ مل کر بیٹھنے سے روکتا ہے۔

اللہ کے پیغمبر نے کہا: کسی دوسرے کے ساتھ دوستی نہ رکھو لیکن ایک ایمان والے کے ساتھ اور کسی کو اپنے ساتھ کھانا نہ کھانے دو لیکن وہ جو پاک ہو۔ ( ابوداؤد 42: 4832

اِسلام مغربی لوگوں سے نفرت کرنے کی تلقین کرتا ہے کیونکہ وہ اِسلام کی اہمیت کو قبول نہیں کرتے۔ اِسلامی دہشتگردی کے 1400 سال کی حکومت میں پانچ سو ملین معصوم لوگوں کو قتل عام کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے اِس عقیدے کے بارے میں دوسرے مذہب کیا کہتے ہیں؟ یا تو اِسلام بہت بُرا ہے یا مسلمان جان بوجھ کر اِسے اپنے اطمینان کے لئے چھُپاتے ہیں۔


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

اِسرائیل، مسیح اور سائنسی طریقہ کار

Next post

شیطان کی دھوکے بازی

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.