خوش آمدیددعاعمیر انجم

اِسلام سے مسیحیت تک میرا سفر

یسوع مسیح میں تمام بہن بھائیوں کو میرا سلام!

آپ میں سے کچھ لوگ جانتے ہوں گے لیکن ذیادہ لوگ نہیں جانتے کہ میں ایک سابق مسلمان ہوں اور پچھلے سال ہی میں نے یسوع مسیح کو قبول کیا۔ یسوع مسیح نے مجھے اپنے زخمی ہاتھوں میں لیا اور مجھے اپنے زخمی قدموں میں لیا۔ میں نے یسوع مسیح کو کیا اپنانا تھا بلکہ اُنہوں نے مجھے اپنانا۔ اور میں اِس بات کا شکرگزار ہوں۔

جب سے میں اِسلام چھوڑ کر مسیحیت میں آیا ہوں تب سے میری زندگی بہت ہی مشکل رہی ہے۔ میرے خاندان نے میری وجہ سے بہت سے دُکھ برداشت کیے۔ ہم پر بہت ظلم کیا گیا۔ میں اپنی بیوی اور بیٹی کو لے کر اِدھر اُدھر جاتا رہا ہوں۔

آج کی یہ ویڈیو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ میں آپ سب کو بتا سکوں کہ جو میرے مسلمان دوست دیکھ رہے ہیں اُن کو میں یہ بتا سکوں کہ میں مسیحیت کی طرف کیوں آیا۔ کہ میں نے مسیحیت میں کیا دیکھا ہے۔ میں نے اِس مذہب میں کیا دیکھا جو آپ لوگوں کو ابھی تک نظر نہیں آیا۔ میری آپ سے یہ درخواست ہے کہ مہربانی فرما کہ آپ اُن پر غور کریں۔ اگر آپ اپنے سچے دل سے اِس بات کو مانتے ہیں تو آپ نجات کی طرف آ جائیے۔

یہ فیصلہ مشکل ہے لیکن میں نے کِیا ہے اور شروعات کی ہے۔ آپ بھی میرے پیچھے آئیں۔ خُداوند آپ کو بھی اپنے زخمی ہاتھوں میں لیں گے۔ خُداوند یسوع مسیح نے ہمیشہ محبت کا پیغام دیا، نجات کا پیغام دیا، آنے والی زندگی اور نہ ختم ہونے والی زندگی کا پیغام دیا۔ اُس کے برعکس اگر ہم اِسلام کو دیکھیں کہ اِسلام میں کیا ہے۔ لڑائی جھگڑے اور سر کلم کر دو۔ خودکش حملہ آور جو آج کل ہو رہا ہے۔ اگر اِسلام اتنا ہی امن والا مذہب ہے تو یہ دہشت گردی صرف مسلمان ممالک میں کیوں ہو رہی ہے۔ یہ سب کیوں کسی مسیحی ملک میں ہو رہی۔

اگر آپ محمد کے پیچھے جا رہے ہیں۔ محمد قرآن میں کیا کہہ رہے ہیں۔ اُس کا باب 46 آیت 9 پڑھ لیں۔ اُس کو ترجمے کے ساتھ پڑھیں اور غور سے پڑھیں کہ آپ کو اُس میں سے کیا پیغام ملتا ہے۔ کہ میں نجات دہندہ نہیں ہوں۔ اُنہیں خود نہیں پتا کہ اُن کے ساتھ کیا ہوگا۔ وہ آپ کی سفارش کہاں سے کریں گے؟ آپ اُن کے پیچھے چل رہے ہیں تو آپ کی بخشش کس طرح ہوگی۔ اُس کے برعکس آپ بائبل میں دیکھ لیں خُداوند یسوع مسیح کہہ رہے ہیں کہ میں تمہارا نجات دہندہ ہوں۔ یسوع مسیح اپنے بندوں سے اِس طرح پیار کر رہے ہیں۔ وہ ہمارے باپ ہیں۔

اگر ہم بائبل کو پڑھتے ہیں تو وہ ہمارے باپ ہیں اور ہم اُن کے بچے۔ اگر قرآن میں دیکھتے ہیں تو مرنے مرانے کی باتیں ہیں۔ بائبل میں دیکھیں تو خُدا ہمیں اپنا بچہ کہہ کر بلا رہا ہے۔ ہمیں پیار کر رہا ہے اور ہمیں اتنے پیار سے بلا رہا ہے۔ قرآن کی تیسری صورت میں آ جائیں اور 45 آیت کا ترجمہ پڑھ لیں۔ اُس میں یہ لکھا ہوأ ہے کہ نجات پانے والے عیسیٰ مسیح کے ماننے والے ہیں۔ ایک طرف آپ قرآن شروع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ “اهدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِيمَ” یعنی ہمیں سیدھا راستہ دکھا اور ” صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ” یعنی اُن لوگوں کا راستہ جن پر تیرا انعام ہوأ۔ اُسی آیت 45 پر آئیں کہ انعام کس پر ہوأ؟ عیسیٰ کے ماننے والوں پر!

دوسری طرف اگر آپ اپنے قرآن کو اتنا افضل سمجھ رہے ہیں تو آپ اُس پر یقین بھی تو کریں اور اُس پر عمل کریں۔ عمل کرنے کی طرف آپ لوگ نہیں آتے اور صرف اپنے مطلب کی چیزیں آپ لوگ نکالتے ہیں۔ اور مسیحیوں پر ظلم کرتے ہیں۔ توہینِ رسالت لگا دیتے ہیں۔ آسیا بی بی کے ساتھ کیا ہوأ؟ گورنر سلمان تاسیر نے کیا کِیا تھا؟ شباز بھٹی منسٹر جس کو مارا۔ اور یہ تو وہ باتیں ہیں جو میڈیا میں آئیں۔ جو مجھ جیسے ہیں جو میڈیا میں نہیں آ سکے اُن کے ساتھ پاکستان میں کیا کچھ نہیں ہوأ۔ لیکن پھر بھی ہم لوگ قائم ہیں اور آخری دم تک میں مسیحیت میں رہوں گا۔ میں اِس بات پر قائم رہوں گا۔ میں کبھی اِس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ اگر ہو سکے تو میں جو بھی کہا اُس پر آپ غور کریں۔ اگر آپ کا دل مانیں تو ہم آپ کو خوشآمدید کہتے ہیں۔ میں آپ کو خوشی سے خوشآمدید کہتا ہوں۔

آپ کا بہت شکریہ!


Previous post

پاکستان میں اقلیت ہونا میرا جرم!

Next post

انجیل مقدس کا خُدا یا قرآن کا خُدا

No Comment

Leave a reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.