خوش آمدید

نرم مزاجی سے بات کرنا

یعقُوب 1 باب 26 آیت: ” اگر کوئی اپنے آپ کو دیندار سمجھے اور اپنی زبان کو لگام نہ دے بلکہ اپنے دِل کو دھوکا دے تو اُس کی دینداری باطِل ہے “۔

اِمثال 11 باب 13 آیت: ” جو کوئی لتراپن کرتا پھرتا راز فاش کرتا ہے لیکن جس میں وفا کی روح ہے وہ رازدار ہے “۔

زبور 101 آیت 5: ” جو در پردہ اپنے ہمسایہ کی غیبت کرے میَں اُسے ہلاک کر ڈالونگا۔ میَں بُلند نظر اور مغرور دِل کی برداشت نہ کرونگا “۔

کُلسّیوں 4 باب 6 آیت: ” تمہارا کلام ہمیشہ اَیسا پُر فضل اور نمکین ہو کہ تُمہیں ہر شَخص کو مُناسِب جواب دینا آ جائے “۔

یہ بات صاف ہے کہ ہمیں مسیحی ہوتے ہوئے اپنے الفاظ پر قابو پانے کے بارے میں سیکھنا چاہیے۔

جب ہم شروعات میں مسیحی بنتے ہیں تو ہمارے اندر بولنے کی وہ تمام پُرانی اچھی اور بُری عادات ہوتی ہیں۔

آپ کا بات کرنے کا بُرا انداز بربادی لا سکتا ہے، جس کے ذریعے ہم اپنے تمام رشتوں کو تباہ کر سکتے ہیں جن میں ہمارے گھر، کام یا گرجاگھر کے رشتے شامل ہو سکتے ہیں۔

لیکن جب ہم غور کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے الفاظ پر قابو پانے کے بارے میں سیکھنے کی ضرورت ہے تو ہم اِس کے لئے کلام کی مدد لے سکتے ہیں۔ ہم بائبل مقدس میں سے اِس بارے میں سیکھ سکتے ہیں۔

جب ہم بائبل کے مطابق سہی طریقے سے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں تو ہم اپنے ہر رشتے کو اچھا کر لیتے ہیں۔ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے اندر محبت، وفاداری اور سچائی ہے۔

کیونکہ مسیح نے ہمیں بچایا کہ ہم اچھے عمال کریں۔ ہمیں اپنی عادات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اِس طرح کے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت ہے جو دوسروں کے لئے سمجھنے میں آسان ہوں۔

ایسی بہت سی برکات ہیں جو ہمارے اچھے عمال کرنے سے ہمیں مل سکتی ہیں جن میں الفاظ کا اچھا استعمال کرنا بھی شامل ہے۔ آمین!


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

اپنی زبان کا سہی استعمال کریں

Next post

روزمرہ کی عام دعا

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.