آج کا پَیغامخوش آمدید

خدا کی مرضِی کو کیسے جانا جا سکتا ہے؟

میں کس طرح اچھے فیصلے کروں؟ خدا واقعی مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ کیا خدا ہر چیز کا خیال رکھتا ہے جو میں کرتا ہوں؟ میری زندگی کے لئے خدا کی مرضِی کیا ہے؟

خدا اِس بات کی پروا کرتا ہے کہ آپ لوگوں کے دلوں میں کیا ہو رہا ہے۔ لیکن یہ جاننے کے لئے کہ خدا کی مرضِی کیا ہے، آپ سب کو خداوند کے کلام پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ آپ خدا کے کلام کا مطالعہ کرتے ہیں اور عبادت میں وقت خرچ کرتے ہیں، خدا کے ساتھ آپ کا تعلق بڑھتا ہے اور آپ خدا کے کردار کو سمجھنے لگتے ہیں۔ اِس طرح آپ اپنی زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی خدا کی ہدایات کو ترجیح دیں گے۔

اگر ہم خدا کی مرضِی پر عمل کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں وہ کرنا چاہیے جو خدا چاہتا ہے۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ وہ وفادار اور اس کی ہی مرضِی ہے کہ ہمارے لئے کیا بہتر ہے۔

خدا ہمیں ایسی چیزیں کرنے کے لئے بلا سکتا ہے جو ہمیں پہلے ہی اچھی محسوس نہ ہوں۔ لیکن جیسا کہ ہم خدا کے بلاوے کا جواب دیتے ہیں، تب ہم اپنی گہرائیوں سے منسلک ہوتے ہیں۔ آخرکار جو خدا ہم سے کروانا چاہتا ہے وہ وہی ہم سے کرواتا ہے۔

ہم سب میں ایسی بہت سی چیزیں ہیں کہ ہم دُنیاوی آرام اور پرسکون جگہ تلاش کرتے ہیں یا ہم اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن وہ چیزیں ہماری گہری روحانی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی ہیں۔

ایک غلط فیصلہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ہمیشہ خدا کی مرضِی سے باہر ہیں۔ یہ پاک کلام کی خوبصورتی کا حصہ ہے: اِس میں لوگوں کی غلطیوں کے بارے میں بہت کہانیاں ہیں۔ لیکن خدا اب بھی ان کو طاقت کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ صرف ابراہیم اور داؤد کو دیکھو. انہوں نے دونوں چیزوں کو جو واضح طور پر غلط قرار دیا تھا، لیکن خدا نے ان کے ذریعے بڑی چیزوں کو پورا کرنے کے لئے کام کیا۔

اس کے علاوہ، ہمیں یاد رکھنا ضروری ہے کہ خدا ہمارا باپ ہے۔ خدا یہاں ہماری مذمت کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ مسیح کی طرح ہماری مدد کرنے کے لئے ہے۔ اگر ہم یسوع پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں تو سب چیزیں سہی ہو جائیں گی۔ خدا جھوٹ نہیں بولتا جو صرف ہمیں صحیح طریقے سے حاصل کرنے کے لئے ایک موقع دیتا ہے بلکہ وہ ہر چیز میں ہماری ہی بھلائی چاہتا ہے. آمین!

 


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

خدا سے ناراضگی ظاہر کرنا

Next post

کیتھولک پادری شادی کیوں نہیں کرتے؟

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.