خوش آمدیدویڈیوزپاسٹر پرویز کھوکھر

روح القدس ہمارا مددگار

آج ہم ایک نئے ٹوپک کے ساتھ آپ کے سامنے آئے ہیں جو کہ میرے اہلِ اسلام بھائیوں کے بارے میں مَیں اِس کو بڑے وصوخ سے کہنا چاہوں گا کہ اِس میں کچھ تھوڑی سی غلط فہمی ہے اور میں اِس کو واضح کرنا چاہوں گا۔ جیسا کہ متی رسول کی انجیل میں لکھا ہے کہ یوحنا منادی کر رہا ہے اور اِس کی پہلی آیت میں ہی ہم دیکھیں گے۔

“اُن دنوں یوحنا بپتسمہ دینے والا آیا اور یہودیا کے بیابان میں یہ منادی کرنے لگا کہ توبہ کرو کیونکہ کہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے”۔

یہ وہی ہے جس کا ذکر یسایا نبی کی معرفط یوں ہوا جیسے بیابان میں پکانے والے کی آواز آتی ہے کہ خداوند کی راہ تیار کرو اور اُس کے راستے سیدھے بناؤ۔ یہ آدمی جو تھا یہ یہودیا کے، یروشلم کے اور یردن کے گردو نما میں منادی کر رہا تھا کہ اِنسان کو توبہ کی ضرورت ہے اور توبہ کے لئے سب سے بڑہ کر یہ ہے کہ انسان پانی کا بپتسمہ لے اور یہ لکھا ہے کہ! لوگ اُس کے پاس آتے اور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے دریاِ یردن میں بپتسمہ لیتے۔

تو میرے عزیز بہنوں بھائیوں مسیحیت کے اندر پانی کا بپتسمہ اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ لوگ بپتسمہ لینے سے پہلے اپنی زبان سے اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہیں۔ دل سے ایمان لانے کے لئے سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کلام کو سننا، اُسے قبول کرنا، توبہ کرنی، اپنے گناہ کا اقرار کرنا اور بپتسمہ لینا ہے اور یوحنا نے یسوع مسیح کے آنے سے پہلے یہ منادی کی اور لکھا ہے کہ “خداوند کی راہ تیار کرو، اُس کے راستے سیدھے بناؤ”۔ یہ یسوع مسیح کے لئے کہا جا رہا ہے۔ اِس کو یسوع مسیح کے آگے بھیجا گیا تا کہ وہ راستوں کو ہموار کرے۔ جو بھی ٹیڑی باتیں ہیں اُن کو سیدھا کرے۔ تو خدا کے کلام میں لکھا ہے کہ وہ لوگوں کو بپتسمہ دیتا تھا پہلی سے گیاروی آیت میں وہ کہہ رہا ہے۔

“میں تو تم کو توبہ کے لئے پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن جو میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے زورآور ہے میں اُس کی جوتیاں اُٹھانے کے لایک نہیں وہ تم کو روح القدس اور آگ سے بپتسمہ دے گا اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہے اور اپنے کھلیان کو خوب صاف کرے گا اور گروہوں کو تو اپنے ختا میں جمع کرے گا مگر بوسی کو آگ میں جلائے گا جو بجھے گی نہیں”۔

میرے عزیز بہنوں بھائیوں ہم اِن آیات میں دیکھ رہے ہیں کہ یوحنا اِس بات کو بڑے وصوخ کے ساتھ واضح کر رہا ہے کہ میں توبہ کے لئے پانی کا بپتسمہ دیتا ہوں لیکن جو میرے بعد آنے والا ہے جس کے میں جوتی کے تسمیں کھولنے کے لایک نہیں۔ تو میرے اہلِ اسلام بھائی جو اِس کو یہ سوچ کر بیان کرتے ہیں کہ یہ باتیں یسوع نے حضورؐ کے حق میں لکھیں ہیں تو میرے ناظرین میرے پیارے بہنوں بھائیوں یہ یوحنا رسول ہے جو پانی کا بپتسمہ دیتا تھا یوحنا رسول یسوع المسیح کے بارے میں کہہ رہا ہے۔

اُس کی وضاحت بڑے وضوخ کے ساتھ میں آپ کو بتاؤں گا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے کہ جو میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے زورآور ہے میں اُس کی جوتی اُٹھانے کے لایک نہیں، یوحنا اپنے آپ کو بڑا پست کر رہا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں لیکن المسیح جو آنے والا ہے میں تو اُس کی جوتی کے تسمے بھی نہیں کھول سکتا، جوتی بھی نہیں اُٹھا سکتا، مجھ میں تو اتنی لیاقت نہیں ہے کہ میں اُس کی جوتی کو بھی ہاتھ لگا سکوں تو کہتا ہے کہ وہ تم کو روح القدس اور آگ سے بپتسمہ دے گا تو میرے عزیز بہنوں بھائیوں یہاں پر جو ذکر کیا گیا ہے کہ وہ پاک روح بھیجے گا یہ یسوع المسیح کا ذکر کر رہا ہے کہ جب وہ آئے گا تو تمہیں آگ اور روح القدس سے بپتسمہ دے گا۔

یسوع نے یوحنا کی انجیل میں بھی کہا کہ میں اب جاتا ہوں جب اُنہوں نے ساڈے تین سال اِس روحِ زمین پر رہ کر بائبل کی منادی کی، خدا کے کلام کو بانٹا اور آپ جانتے ہیں کہ قرآنِ پاک میں بھی خداوند یسوع مسیح کا ذکر ہے کہ اُس نے مردوں کو زندہ کیا، لنگڑے چلے، بدروحوں کو نکالا، اندھوں کو آنکھیں دیں یہ ساری کی ساری صفات کا ذکر ہم قرآنِ پاک میں بھی پڑھتے ہیں تو اُس نے کہا کہ اب میں جاؤں گا اور جا کر تمہیں دوسرا مددگار بھیجوں گا۔ تو دوسرا مدد گار ہے روح حق پاک روح تو میرے عزیز بہن بھائی اہلِ اسلام اِس بات کو بھی حضورؐ کے ساتھ لگاتے ہیں کہ یہ اُن کے بارے میں ذکر ہے۔

جب یہ واقع ہوا تو یسوع مسیح آسمان پر چلے گئے تو یہ روح القدس جو تھا یہ دس دن کے بعد اُترا تھا۔ تو میرے عزیز بہنوں بھائیوں اسلام ساڈے سات سو سال کے بعد اُس کا ذکر اور اُس کا وجود آیا ہے تو کسی بھی لحاظ سے حضورؐ پر یہ آیت نہیں اُترتی تو یہی اُلجھن چلی آ رہی ہے جس کو میں واضح کر رہا ہوں۔

تو میرے عزیز بہنوں بھائیوں میرے خیال میں آپ اِس بات کو سمجھ چکیں ہیں۔ تو وہ کہتا ہے کہ اُس کا چھاج اُس کے ہاتھ میں ہوگا، چھاج یہ انصاف کا ترازو ہے اور انصاف کا ترازو صرف اور صرف المسیح کے پاس ہے اور کہہ رہا ہے کہ کھلیان کو یعنی کہ اپنے کھیتوں کی جب فصل کاٹی جاتی ہے تو اُس کو صاف ستھرا کیا جاتا ہے اور گہوں جو ہوتے ہیں جمع کر لئے جاتے ہیں اور بوسے کو جلا دیا جاتا ہے۔ یہ گہوں اچھے لوگوں کو ظاہر کر رہا ہے، اچھے قردار کے لوگوں کی، روحانی لوگوں کی آکاسی کی جا رہی ہے اور بوسی کا مطلب ہے وہ لوگ جن کی زندگی بدروحوں میں گزر جاتی ہیں جن کی زندگی گندگی میں گزر جاتی ہے وہ آگ میں ڈالے جائیں گے گندق آگ کی جھیل میں ڈالی جائیں گے۔

یہ یسوع المسیح کا کام ہے کیونکہ وہ آنے والے ہیں۔ جبکہ قرآنِ پاک بھی اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جس طرح وہ آسمان پر گیا اور اُس طرح وہ واپس بادلوں پر آئے گا، ٹھیک ہے یہ قرآنِ پاک کا ذکر ہے لکھا ہے کہ وہ آکر دجال کو باندھے گا۔ بائبل اِس بات کا ذکر مکاشمے میں کرتی ہے کہ جب خداوند یسوع آئے گا تو ہزار سال کے لئے شیطان کو باندھے گا۔ تو میرے عزیز بہنوں بھائیوں قرآنِ پاک اور بائبل مقدس آپس میں ملتی جلتی ہیں۔ اِن کو ہمیں جانچنے کی اور سمجھنے کی ضرورت ہے جب ہم اِن کی گہرائی میں جا کر تحقیق کریں گے۔ بائبل اور قرآنِ پاک کی تحقیق کریں تو اِن باتوں کا جواب آپ کو بڑی وضاحت کے ساتھ مل جائے گا۔ خداوند آپ کو برکت دے۔ آمین!

پاسٹر پرویز کھوکھر


Previous post

یسوع مسیح کی پیدائش

Next post

یسوع المسیح کے نام میں نجات

No Comment

Leave a reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.