آج کا پَیغامخوش آمدید

بھٹے پر کام کرنے والے غلام مسیحی

پاکستان میں تقریباً 2.8 میلیین مسیحی رہتے ہیں، اور اُن میں سے آدھے سے زیادہ رومن کیتھولک ہیں اور باقی کے پروٹیسٹنٹس ہیں۔ غربت اور عدم مساوات مسیحیوں کو پاکستان میں اُن کی اصل سہولتوں کے بغیر رہنے پر مجبور کر رہی ہے اور وہ بہت سی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جیسے کہ نہ خواندگی، نہ کوئی طبی طور پر مدد، نہ گھریلو، نہ اچھے روزگار کے مواقع، یا کوئی کاروباری مدد، اور بلا جواز قوانین جو کہ اکثر مسیحیوں کہ خلاف ہوتے ہیں۔ تفریق کا سامنا کرنا مسیحیوں کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہو گیا ہے۔ 81% مسیحی بے گھر ہیں، 68% بے روزگار ہیں اور 67% پاکستان میں غربت کی لکیر کے نیچے آتے ہیں۔

مسیحی برادری میں دو طرح کے گروہ ہیں جو غربت کی لکیر کے نیچے رہ رہے ہیں؛ ایک وہ جو گھریلو ملازمین یا صفائی کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور دوسرا گروہ وُہ ہے جو بہت غریب اور بھٹے پر کام کر کے کماتے ہیں۔ وہ مسیحی جو مسلمانوں سے قرضہ لیتے ہیں اُن کو بھی مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ بھٹے پر کام کر کے اُن کا قرضہ اُتاریں۔ مسیحی خاندان اپنے بچوں سمیت سالوں کام کرتے ہیں کہ وہ اعلیٰ سود کے قرضوں کو اُتار سکیں۔ مسلمان مالک مکان کے پاس غلام کے طور پر رہتے ہوئے اُن کو اذیتیں دی جاتیں ہیں، ذیادتی کی جاتی ہے، برا سلوک کیا جاتا ہے اور اُن کو غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

غلامی! جو بہت سے لوگوں کی طرف سے ایک رجحان سمجھا جاتا ہے، وہ پہلے ہی ختم ہو چکا ہے جو ابھی بھی پاکستان جیسے ملک میں عمل میں پایا جاتا ہے۔ جہاں پر بچوں کو غلام بنا دیا جاتا ہے۔ جس عمر میں اُن بچوں کو اسکول جانا چاہیے، اُنہیں اُسی عمر سے کام کرنے اور قرضے اُتارنے کے لیے خاندان کی مدد میں لگا دیا جاتا ہے۔ اِس سے بھی بدتر، یہ بچے اکثر جسمانی تشدد، جنسی زیادتی، طویل کام کے اوقات اور کام کے دوران خطرناک حالات سے گزرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں بچوں کی مزدوری پر قانون تو موجودہ ہے لیکن وہ کسی کام کا نہیں ہے۔ وہ پڑھائی نہیں کر سکتے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ کبھی بھی اچھا مستقبل نہیں پا سکیں گے جب تک غلامی اُن کی منزل ہے۔ اسکول جانا اِن بچوں کی سب سے بڑی ضرورت ہے تاکہ اُن کو اُس چیز کا سامنا نہ کرنا پڑھے جس چیز کا اُن کے والدین اب سامنا کر رہے ہیں۔

وہ مسیحی جو بھٹے پر کام کرتے ہیں وہ بہت زیادہ غریب ہیں کہ وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات برداشت کر سکیں۔ وہ اپنے آپ کو پوری طرح سے بھی پالنے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ صحت کی بنیادی سہولتوں کے بغیر جیتے ہیں اور وہ طبی معائنہ کے اخراجات کو بھی پوری طرح سے برداشت نہیں کر سکتے۔ اُن کی بیماریوں کو اکثر تب تشخیص کیا جاتا ہے جب وہ آخری مرحلے پر ہوتی ہیں اور اُس کے بعد کوئی بھی علاج ممکن نہیں ہوتا۔ بہتر صحت کے لیے مسیحی خاندانوں میں طبی مدد اور آگاہی کی سخت ضرورت ہے۔

ہم نے حال ہی میں رائیؤنڈ شہر جو صوبہ پنجاب میں ہے اُس کا دورہ کیا تھا۔ جہاں پر ہم بیس سے زیادہ خاندانوں سے ملے جو غیر محفوظ حالات میں جی رہے تھے۔ اُنہیں اِس مشکل سے نکالنے کے لیے ہمیں اُن کی اِس طرح مدد کرنے کی ضرورت ہے کہ:

1. ہم اُن کے قرضے اُن کے مالکِ مکان کو ادا کر دیں ( ہر خاندان کے لئے مختلف رقم 800 یورو سے 1200 یورو تک ہے )۔

2۔ اُن کی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے لیے اُن کو مالی مدد فراہم کریں۔

3۔ اِس کے ساتھ اُن کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کریں۔

4۔ اُنہیں کاروبار شروع کرنے کے لیے ہنر سکھائے جائیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں کو پال سکیں اور آزاد زندگی جی سکیں۔

5۔ اُن کے بچوں کو اسکول بھیج کر اُن کی مدد کریں۔

یہ صرف ایک مسیحی گروہ ہے جس کو ہم نے یہاں پر بیان کیا ہے۔ حقیقت میں ایسے بہت سے غریب مسیحی گروہ ہیں جو کہ اِسی طرح کے مشکل حالات میں مختلف شہروں اور مختلف صوبوں میں غلاموں کی طرح بھٹے پر کام کرتے ہوئے جی رہے ہیں۔ آج کے جدید دور میں بھی اُن کے ساتھ جانوروں والا سلوک کیا جاتا ہے، جو کہ انسانی حقوق کی عالمی کنونشن کی واضح طور پر خلاف ورزی ہے۔

مسیح کے اِن پیروکاروں کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے ہمیں آپ کی بے لوث مدد کی ضرورت ہے۔ چلیں ہم ایک پلیٹ فارم پر اتحاد کے ساتھ مل کر ہاتھ ملائیں اور چلیں ہم مل کر اُن کو تعلیم، طبی مدد، پیشہ ورانہ تربیت اور ہنر فراہم کریں۔ چلیں ہم اُن کی مدد کریں کہ وہ بہتر زندگی جی سکیں اور اُن کے چہروں پر اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے لیے ایک چھوٹی سی مسکان ہو۔ چلیں ہم اُن کی مدد کریں کہ آج وہ غلامی سے آزاد ہوں۔

یُوحنا کا پہلا خط اُس کا 3 باب اور اُس کی 17 آیت میں خدا فرماتا ہے:

“جس کسی کے پاس دنیا کا مال ہو اور وہ اپنے بھائی کو محتاج دیکھ کر رحم کرنے میں دریغ کرے تو اُس میں خدا کی محبت کیوں کر قائم رہ سکتی ہے”۔

چلیں ہم خدا کے الفاظ پر عمل کریں اور اپنے مسیحی بھائیوں اور بہنوں کے لیے کچھ کریں اُن کو خدا کے جلال کی بہت ضرورت ہے کیونکہ وہ مسیح کے جسم کا ایک حصہ ہیں۔ آمین!

 


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

گناہ سے کیسے بچا جائے

Next post

زبور کی کتاب کی تعلیم

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.