خوش آمدیدویڈیوزپاسٹر پرویز کھوکھر

یسوع مسیح کی پیدائش

خدا کی تعریف ہو! میں پاسٹر پرویز کھوکر جرمنی آپ سے مخاتب ہوں۔ آج ہم یسوع مسیح کے بارے میں دیکھیں گے کہ اُن کی کیا شخصیت ہے۔ اِس میں مَیں قرآنِ پاک کی چند آیات بھی پیش کروں گا۔ جو کلامِ خدا کے ساتھ متفق ہیں اِن باتوں کے بارے میں آج ہم دیکھیں گے۔ یوحنا کی انجیل اُس کا پہلا باب اور اُس کی پہلی تین آیات پر ہم غور کریں گے، خداوند کے کلام میں یوں لکھا ہے۔

“ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا، یہی ابتدا میں خدا کے ساتھ تھا سب چیزیں اُس کے وسیلے سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہوا ہے اُس میں سے کوئی چیز بھی اُس کے بغیر پیدا نہیں ہوئیں”۔

خداوند کے کلام پر اُس کی برکت ہو۔ تو میرے عزیز بہنوں بھائیوں اِن تین آیات کے اندر کلامِ خدا ظاہر کر رہا ہے کہ وہ خدا کے لفظ، خدا کی رُوح اور بنانے والا ہے اور یہی باتیں قرآن پاک میں بھی آتیں ہیں کہ وہ کلمِ اللہ ہے یعنی خدا کا کلمہ۔ عیسیٰ ؑ خدا کا پاک رُوح ہے اور سورتہ مریم میں آتا ہے کہ عیسیٰ ؑ مٹی سے پرندے بناتا اور وہ اُن میں دم پھونکتا تو وہ اُڑتے۔ اب میرے عزیز بہنوں بھائیوں یہ کون کر سکتا ہے، یہ وہی کر سکتا ہے جو بنانے والا ہے۔ تو اِن حوالوں میں ہم دیکھیں گے کہ وہ کلام ہے، خدا کلام ہے اور وہ کلام مجسم ہو کر آیا۔ اگر ہم اِس کی 14 آیت کو دیکھتے ہیں تو وہاں پر لکھا ہوا ہے۔

“اور کلام مجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اُس کا جلال دیکھا جیسا باپ کے ایکلوتے کا جلال”۔

تو میرے عزیز بہنوں بھائیوں یہ آیات اِس بات کو واضح کر رہی ہیں جیسے کہ میں نے ذکر کیا ہے کہ قرآنِ پاک میں حضرت مسیح ؑ کو کلمِ اللہ کہا گیا ہے یعنی اللہ کا کلام اور قرآنِ پاک میں ہی حضرت مسیح کو رُوح اللہ کہا گیا ہے یعنی کہ اللہ کا پاک رُوح کہا گیا ہے اور قرآنِ پاک سے ہی میں نے یہ بات ظاہر کی ہے سورۃ مریم کے اندر کہ وہ مٹی کہ پرندے بناتے اور اُن میں دم پھونکتے اور وہ اُوڑ جاتے۔ تو ایسی باتیں صرف اور صرف یسوع المسیح کے بارے میں ہی لکھیں ہوئی ہیں۔ تو لکھا ہے آگے۔ “اُس میں زندگی تھی اور وہ زندگی آدمیوں کا نور تھیں اور نور تاریکی میں چمکتا ہے اور تاریکی نے اُسے قبول نہ کیا”۔

اُس میں زندگی ہے۔ وہ آج بھی زندہ ہے اور قرآنِ پاک سورۃ مریم کے اندر جب یسوع پیدا ہوا تو عرب کے لوگ آئے اور آکر کہا اے مریم! نہ تو بدکار تھی تو یہ کہاں سے بچہ آگیا! تو قرآن پاک میں ارشادہ ہے کہ مریم نے المسیح کی طرف اشارہ کیا اور آپ بول اُٹھے، “مبارک وہ دن جس دن میں پیدا ہوا، مبارک وہ دن جس دن میں مروں گا، مبارک وہ دن جس دن میں جی اُٹھ کر آسمان پر جاؤں گا”۔

تو میرے عزیز بہنوں بھائیوں قرآن پاک یسوع المسیح کی یہ صفات کو ظاہر کر رہا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دو دن کا بچہ بات کر سکتا ہے۔ آج تک رُوح زمین پر کوئی بھی ایسی شخصیت پیدا نہیں ہوئی جو دو دن کا ہو اور وہ باتیں کرے۔ دیکھیے دیکھیے المسیح کی شان کو دیکھیے کہ وہ دو دن کا ہو کر اپنے مستقبل کی باتیں کر رہا ہے اور یہ باتیں کسی اور ولی، نبی یا پیغمبر کے منہ سے نہیں نکلی ہالانکے۔ اِس رُوحِ زمین پر ایک لاکھ چوتالیس ہزار انبیاہ کرام آئے۔ مگر کسی نے بھی اِن باتوں کا داواہ نہیں کیا کے وہ زندگی ہیں۔ تو عزیز بہنوں بھائیوں جب کوئی بھی انسان المسیح کو قبول کر لیتا ہے تو یہ 12 آیت میں لکھا ہوا ہے۔

جتنوں نے اُسے قبول کیا اُس نے اُنہیں خدا کے فرزندہ بننے کا حق بخشاہ یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر ایمان لاتے ہیں۔ دیکھیں آگے لکھا ہے! نہ وہ خون سے، نہ وہ جسم کی خواہش سے، نہ وہ انسان کے ارادے سے بلکہ خدا سے پیدا ہوا۔ کتنی خوبصورت بات ہے میں اِس بات کو مانتا ہوں کہ ہمارے اہلِ اسلام بھائی یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے نہ کسی کو جنا، نہ وہ کسی سے جنا گیا۔ میں اِس آیت کے ساتھ متفق ہوں مگر قرآنِ پاک جو بات کر رہا ہے سورۃ مریم کے اندر جیسا کے ہم دیکھتے ہیں کہ جبرائیل فرشتہ مریم کے پاس آیا اور آ کر کہا سلام تجھ کو جس پر فضل ہوا یہ بلکل ایسے ہی لوقا کی انجیل میں آتا ہے ویسے ہی بلکل قرآنِ پاک میں بھی آیا تو قرآنِ پاک میں بھی لکھا ہے کہ وہ گھبرا گئی کہ یہ کون تھا تو جبرائیل فرشتے نے کہا میں اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور تمہیں ایک نشان دینا چاہتا ہوں کہ تو ایک ستھرا بیٹا پیدا کرے گی، تو وہ کہتی ہے کہ مرد نے مجھے چھووا نہیں، تو قرآنِ پاک میں یہ مرکوم ہے کہ مریم دیکھ اللہ تعلیٰ نے تیری شرم گاہ کی حفاظت کی ہے۔ اور یہ جو بچہ ہو گا قدرت اللہ سے ہو گا اور پوری اُمت کے لئے نشانی ٹھہرے گا۔

میرے عزیز بہنوں بھائیوں قرآنِ پاک المسیح کی بڑی صفات کا ذکر کر رہا ہے اور بڑی صفائی کے ساتھ کہہ رہا ہے۔ جیسا کے اگر ہم لوقا کی انجیل کو دیکھتے ہیں تو وہاں پر بھی یہی ذکر آتا ہے کہ چھٹے مہینے جبرائیل فرشتہ مریم کے پاس بھیجا گیا جس کی منگنی یوسف نامی شخص کے ساتھ ہوئی تھی تو لکھا ہے کہ وہ سلام سُن کر بہت گھبرا جاتی ہے فرشتے نے کہا کہ تو خوف نہ کر گھبرا نہیں کیونکہ خدا کا فضل تجھ پر ہوا ہے تو حاملہ ہوگی اور تیرے بیٹا ہو گا اور تو اُس کا نام یسوع رکھ۔ یہی آیت ہم نے قرآن پاک میں دیکھی ہے سورۃ مریم کے اندر۔

تو میرے عزیز بہنوں بھائیوں، تو لکھا ہے آگے مریم نے فرشتے سے کہا یہ کیوں کر ہو سکتا ہے جب کہ میں نے مرد کو نہیں چھووا ایسی ہی بات قرآنِ پاک میں آتی ہے، فرشتے نے جواب دیا اُس نے کہا “رُوح القدس تجھ پر نازل ہو گا اور خدا تعلیٰ کی قدرت تجھ پر سایا ڈالے گی اِس سبب سے وہ ملودہ مقدس خدا کا بیٹا ٹھہرے گا”۔ اب یہاں پر خدا کا بیٹا جو آگیا ہے، شایدہ میرے مسلمان بہن بھائیوں کی نظر میں یہ کچھ بائثِ ٹھوکر ہو لیکن یہ ایسی بات نہیں ہے کیونکہ قرآن پاک میں بھی اگر آپ سورۃ المائدۃ کے اندر دیکھتے ہیں تو وہاں پر بھی لکھا ہے “اے عیسیٰ ؑ میں نے تجھے رُوح القدس سے تیار کیا”۔ یہاں پر رُوح القدس کا ذکر آتا ہے۔

تو روح القدس خدا کا پاک رُوح ہے۔ خدا کیا ہے؟ خدا ایک رُوح ہے۔ وہ رُوح کے وسیلے سے پیدا ہوا، نہ جسمانی لحاظ سے، نہ جسم کی خواہش سے، نہ انسان کے خیال سے، نہ خون اور نہ گوشت سے پیدا ہوا۔ تو اِس لئے اُسے خدا کا بیٹا کہا جاتا ہے یہ جسمانی بیٹا نہیں ہے۔ قرآنِ پاک بھی جسمانی بیٹے کا ذکر نہیں کر رہا بائبل مقدس بھی جسمانی بیٹے کا ذکر نہیں کر رہی یہ دونوں روحانی رشتے کو ظاہر کر رہے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر آپ کسی کے پاس قرآن پاک کو سیکھنے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں تو راہ چلتے کبھی کوئی آپ کا دوست مل جاتا ہے تو وہ آپ سے پوچھتا ہے کہ یہ بزرگ آپ کے ساتھ جا رہے ہیں مولانا یا خدا کا وہ خادم تو آپ یہ کہیں گے کہ یہ میرے روحانی باپ ہیں جن سے میں کلام سیکھ رہا ہوں تو یہ روحانی رشتہ ہے یہ جسمانی رشتہ نہیں ہے نعوزبللہ خدا بچے پیدا نہیں کرتا اور نہ کوئی خدا کی بیوی ہے صرف انسان کو تھوڑا کلامِ پاک کو اور قرآنِ پاک کو بڑی گہرائی میں جا کر سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اِس لئے کلام کیا ہے؟ یہ خدا کا لفظ ہے کیونکہ قرآنِ پاک میں بھی لکھا ہوا ہے کہ خدا نے کہہ “کن”، کُن کا مطلب ہے کہنا اور ہو جانا اور سب چیزیں اِسی کے وسیلے سے یعنی کے یسوع کے وسیلے سے وجودہ میں آئیں۔ لکھا ہے سب چیزیں اُسی کے وسیلے سے وجودہ میں آئیں۔ اِن آیات کے اندر وہ کیا ہے، خدا کا لفظ ہے، خدا کا رُوح ہے اور بنانے والا۔ میرے عزیز بہنوں بھائیوں خداوند آپ کو برکت دے۔ میرے خیال میں آپ بہت سی چیزیں سمجھ گئے ہونگے تو خداوند نے چاہا تو ہم جلد ہی ایک نئے ٹوپک پر آپ کے سامنے حاضر ہونگے۔

پاسٹر پرویز کھوکھر


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

یسوع کے نام میں مسح

Next post

روح القدس ہمارا مددگار

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.