بلاگخوش آمدید

مسیحیت میں روزہ کیا ہے؟

معاشرے میں یہ بات بہت کی جاتی ہے کہ مسیحی جب روزہ رکھتے ہیں تو وہ توے کی پکی روٹی نہیں کھاتے صرف پھل اور مشروبات کا استعمال کر سکتے ہیں. جب کہ یہ بات بلکل غلط ہے، انجیل مقدس اور مسیحی روزے کے مطابق ایسا کہیں بھی نہیں لکھا. روزہ ایک عبادت ہے اور میں یہ ضرور بتانا چاہوں گا کہ مسیحی مذہب میں مسیحی عقیدے کے مطابق روزے کی خاص اہمیت ہے. پرانے عہد نامہ میں مسیح سے پہلے انبیا کی معرفت جو کتابیں اور کلام خدا کی طرف سے ہم تک پہنچیں جن سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ حالات کے ساتھ روزے رکھتے، جن میں چالیس، دس، سات اور ایک دن کا روزہ بھی رکھا گیا ہے۔

ملکہ آستر نے اپنی قوم کی رہائی اور بخشش کے لیے بادشاہ کے حضور جانے سے پہلے ان سب سے کہا کہ سب لوگ میرے لئے اور میری قوم کے لیے روزہ رکھیں. اسی طرح نحمیا نبی کو جب پتا چلا کہ یروشلیم کی دیواریں گر رہیں ہیں، اس کے پھاٹک اور شہر جل چکے ہیں اور جو لوگ وہاں رہتے ہیں بہت ذلت اور بہت مصیبت بھری زندگی بسر کر رہیں ہیں تو وہ ماتم اور روزے کی حالت میں چلا گیا۔

میرے ایمان کے مطابق روزہ مسیحیوں پر فرض نہیں ہے بلکہ روزہ خاص مقصد کے لیے رکھا جاتا ہے اور اس کے لیے کوئی خاص دن یا مہینہ مخصوص نہیں کیا گیا. یہ الگ بات ہے کہ چرچ کونسل نے ایسٹر سے پہلے چالیس دن روزوں کے لیے مقرر کیے۔

ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسیحی اتوار والے دن روزہ کیوں نہیں رکھتے؟ شروع سے ہی اتوار کو سبت کا دن مانا جاتا ہے کیونکہ یہودی کیلنڈر کے مطابق ہفتے کے پہلے دن یسوع مسیح مردوں میں سے جی اٹھے تھے. تو ہم لوگ ہر اتوار خوشی مناتے ہیں، گرجاگھر جاتے ہیں اور اسکی عبادت کرتے ہیں۔

روزے کی حالت کلام مقدس کے مطابق یہ ہے کہ ہم روزے کی حالت میں عبادت کرتے ہیں، اپنا دھیان خدا کی طرف لگاتے ہیں اور روزے کے لیے ایک بہت ہی اہم بات جو انجیل میں متی کی معرفت لکھی گئی ہمیں متی 6 باب میں پڑھنے کو ملتی ہے جس میں یوں لکھا ہے: “کہ جب تم روزہ رکھو تو ریاکاروں کی طرح اپنی صورت اداس نہ بناؤ کیونکہ وہ اپنا منہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگ ان کو روزہ دار جانے، میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پا چکے. بلکہ جب تو روزہ رکھے تو اپنا سر میں تیل ڈال اور منہ دھو تاکہ آدمی ہی نہیں بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہے تجھے روزہ دار جانے اس صورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دیگا”. یہ بہت اہم بات ہے جو مسیح نے کہی۔

جب ہم پرانے عہد نامے میں یسعیاہ نبی کے صحیفے کا مطالبہ کرتے ہیں. تو (یسعیاہ 58 باب 3 آیت) یوں لکھا ہے: “وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کس لیے روزے رکھے کہ جب تو نظر نہیں کرتا اور ہم نے کیوں اپنی جان کو دکھ دیا جبکہ تو خیال میں نہیں لاتا. دیکھو تم اپنے روزے کے دن میں خوشی کے طالب رہتے ہو اور سب طرح کی سخت محنت لوگوں سے کرواتے ہو دیکھو تم اس مقدس سے روزہ رکھتے ہو کہ جھگڑا وگڑا کرو اور شرارت کے مکے مارو. پس اب تم اس طرح کا روزہ نہیں رکھتے ہو کہ تمہاری آواز عالم بالا پر سنی جائے”. ہم لوگ روزہ رکھ کر اپنی شکل بگاڑ لیتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ہم روزہ دار ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہم جھگڑا کرتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ روزے کی حالت میں ہمیں ان سب چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے اور اپنی عملی زندگی کو درست کرنا چائیے۔


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

انجیل طلاق اور دوسری شادی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

Next post

پانچ طاقتیں

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.