بلاگخوش آمدید

میں اپنے ایمان پر کیوں شک کروں؟

پہلے مجھے اپنے ایمان پر شک تھا۔ میں سوچتا تھا کہ مجھے ایسے ایمان کی ضرورت ہے جسے میں چھو سکوں، محسوس کر سکوں اور دیکھ سکوں۔ اور میں نہ ہی کسی کو جانتا تھا جس میں یہ سب ہو۔ میں اِن سب شکوہات سے کیسے چھٹکارا پا سکتا ہوں؟

آپ یقینی طور پر اکیلے نہیں ہیں۔ شاید آپ دوسرے لوگوں کی نسبت اپنے جذبات کے معاملے میں زیادہ ایماندار ہیں۔ حقیقت میں بہت سے مسیح کے پیروکار شک کا شکار ہیں۔ بہت سے سچے مسیحی جو کئی سالوں سے محنت کر رہے ہیں وہ ابھی تک شک کا شکار ہیں۔

اپنے ایمان پر شک کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ حقیقت میں یہ آپ کو روحانی طور پر ایمان میں ذیادہ مضبوط کرتا ہے اور آپ کو ذیادہ سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ اِس میں ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ آپ اپنے خاندان کے ایمان سے الگ ہو کر اپنے ایمان میں ذیادہ گہرائی میں چلے جائیں اور ذیادہ مضبوط ہو جائیں۔

تو اپنے ایمان کے بارے میں ذیادہ سختی سے شک نہ کریں۔ بلکہ اُن باتوں پر غور کریں کہ آپ کو کہاں شک محسوس ہو رہا ہے۔ بنیادی طور پر دو ایسی وجوہات ہیں جن کو لے کر لوگ شک میں پڑتے ہیں:

پہلے عقل مندی کے سوالات: اِس میں لوگوں کے سوال اِس بات پر ہوتے ہیں کہ کیا سچ ہے؟ اور کیا منطقی ہے؟ وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ ” میں اِس بات پر ایمان کیوں رکھوں کہ بائبل خدا کا کلام ہے؟ ” ” مسیحیت دوسرے مذہبوں سے مختلف کیوں ہے؟ “۔

آپ اِس بارے میں ماہرین کے موضوعات پر غور کریں، پڑھیں اور سُنیں۔ سائنسی اور تاریخی طور پر ایسی وجوہات موجود ہیں جو مسیح کی موجودگی، مرُدوں میں سے جی اُٹھنا اور کہ بائبل جھوٹی نہیں ہے، کو ظاہر کرتی ہیں۔ اِس بات کے بارے میں پڑھنے اور سچ ڈھوںدنے میں آپ کا کافی وقت بھی لگ سکتا ہے۔

دوسری طرف جذباتی سوالات ہیں: ایسے سوالات غم اور تکلیف کی صورت میں کیے جاتے ہیں کہ ” خدا کیوں تکلیف میں مدد نہیں کرتا؟ ” اتنا محبت کرنے والا خدا کیوں ایسے لوگوں کو جہنم میں بھیجے گا جو مسیحی نہیں ہیں؟ ” ” لوگ کیوں معزور پیدا ہوتے ہیں؟ “۔

خدا پر جذباتی طور پر شَک کرنے والے لوگوں کو کسی بات کے جواب کی ضرورت نہیں ہوتی اُنہیں صرف خدا کی محبت اور سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُنہیں سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی ایسے کی ضرورت ہوتی ہے جو اُن کی سُن سکے۔ اگر آپ کو اپنے ایمان پر شک صرف تکلیفوں کی وجہ سے ہے تو آپ کو صرف ایک سچے مسیحی کی ضرورت ہے جو آپ کو سُن سکے۔

چاہے آپ کو کسی بھی وجہ سے اپنے ایمان پر شَک ہو، آپ صرف یہ یاد رکھیں کہ: آپ بھی شَک کر سکتے ہیں اور اپنے ایمان میں مضبوط رہیں۔

جب آپ کو یہ لگے کہ آپ کا شک بڑھ رہا ہے تو آپ مرقس میں سے اِس کہانی کو یاد رکھیں کہ ایک شخص مسیح کے پاس اپنا بیمار بچہ لے کر آیا تھا۔ مسیح کی کافی منت کرنے کے بعد اُس شخص نے کہا کہ ” اگر آپ کچھ کر سکتے ہو تو اِسے ٹھیک کردو اور ہماری مدد کرو “۔

یسوع نے کہا ” اگر؟ ایمان رکھنے والے “اگر” نہیں کہیں۔ تو ہر چیز ہو سکتی ہے”۔

اور وہ شخص رو پڑا،” میں ایمان لاتا ہوں۔ مجھے میرے شک میں مدد کر”۔

اِسی طرح آپ بھی شک سے نجات پانے کی مدد مانگیں۔ ہر دِن خدا پر توکل رکھیں اور اُسے اپنے شک کے بارے میں بتائیں۔ وہ اِس کے ذریعے آپ کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ وہ آپ کے شک کے دوران آپ کا دوست اور خداوند بننا چاہتا ہے۔ آمین!


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا کیوں کہا جاتا ہے؟

Next post

یسوع مسیح کو خدا کی بھیڑ کیوں کہا گیا؟

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.