خوش آمدیدرشید مسیحویڈیوز

موت کیا ہے

خُدا کی تعریف ہو کیونکہ وہ بھلا ہے اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔ عزیزوں آج ہم اِس بات پر غور کریں گے کہ موت کیا ہے؟ اِس کی حقیقت کیا ہے؟ اِس کا انجام کیا ہے؟ اِس کی شروعات کہاں سے ہوئی؟ موت ایک ایسی چیز ہے جس سے دُنیا کا ہر شخص ڈرتا ہے۔ لیکن بائبل مسیحیوں کو یہ سکھاتی ہے کہ اُنہیں موت سے کبھی نہیں ڈرنا چاہیے کیونکہ وہ موت کو نہ دیکھیں گے۔ آج ہم اِس بھید پر بھی پر غور کریں گے کہ کیوں یہ کہا گیا کہ مسیحی موت کو نہ دیکھیں گے۔ یوحنا کی انجیل کے 11 باب کی 25 آیت میں: ” یسوع نے اُس سے کہا قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہے گا “۔

اِس بات کا کیا مطلب ہے؟ کیوں یسوع نے یہ کہا؟ کہ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ مر جائے تو بھی زندہ رہے گا اور پھر یہ بات کہنا کہ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ کبھی موت کو نہ دیکھے گا کیونکہ موت سب کو آتی ہے۔ چلیں ہم اِس بھید کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِس بھید کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے آپ یہ بات سمجھیں کہ موت کیا ہے؟ موت ایک دُشمن ہے۔ یہ کیسے اِنسان کی زندگی میں آئی؟ اِس کا آغاز گناہ کی وجہ سے ہوآ۔ رومیوں کے خط میں لکھا ہے کہ گناہ کے سبب سے موت نے سب پر بادشاہی کی۔ پہلا کرنتھیوں 15 باب 26 آیت میں لکھا ہے کہ:” سب سے پچھلا دُشمن جو نیست کیا جائے گا وہ موت ہے”۔ یعنی بائبل موت کو ایک دُشمن کہتی ہے اور اِس کا انجام یہ بتاتی ہے کہ اِس کو ختم کر دیا جائے گا۔

یہی بات مکاشفہ کی کتاب کے 20 باب میں جب خُدا آخرت کی عدالت کی بات کرتا ہے تو وہاں پر بھی کہا گیا ہے کہ” اور سمندر نے اپنے اندر کے مرُدوں کو دے دیا اور موت اور عالمِ ارواح نے اپنے اندر کے مرُدوں کو دے دیا اور اُن میں سے ہر ایک کے اعمال کے موافق اُس کا اِنصاف کیا گیا اور پھر موت اور عالمِ ارواح کو آگ کی جھیل میں ڈال دیا گیا “۔ یہ دوسری موت ہے اور بائبل میں لکھا ہے کہ مُبارک ہیں وہ جو دوسری موت میں شریک نہ ہوں گے۔ ہمیں یہ کیوں سکھایا گیا ہے؟ یسوع مسیح نے یہ کیوں کہا تھا کہ موت مسیحی کو نہیں آئے گی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ موت کا ایک فرشتہ مقرر ہے، جو مسیحیت میں مرتا ہے اُسے وہ نہیں لینے آتا۔ بلکہ اُس کو خُدا کے فرشتے لینے آتے ہیں اور یسوع مسیح آسمان کے دروازے پر خود اُس کا استقبال کرتے ہیں۔ اِس لئے لکھا ہے کہ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہوآ مرے وہ کبھی موت کو نہیں دیکھے گا اور اُس کو موت کا فرشتہ لینے کے لئے نہیں آتا۔

اِس لئے آپ کو موت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کبھی کسی مسیحی کو موت سے ڈر لگتا ہے کیونکہ جو سچا مسیحی ہوتا ہے وہ کبھی بھی موت سے نہیں ڈرتا۔ اُس کے اندر روحانی طور پر مضبوطی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی اِسی زندگی میں موت پر غالب آجاتا ہے اور اُس کو کبھی موت سے ڈر نہیں لگتا۔ اگر آپ اپنی مسیحیت کو جانچنا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کو اندر سے جانچیں کہ آپ کو موت سے ڈر لگتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ ایک مسیحی کو کبھی بھی موت سے ڈر نہیں لگتا۔ موت ایک دُشمن ہے اور اِس کو ختم کر دیا جائے گا۔ خُداوند آپ سب کو برکت دے۔ آمین!


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

نجات کے لئے دُعا

Next post

نجات کیا ہے؟

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.