آج کا پَیغامخوش آمدیدگراہم فورڈ

آج کا پیغام : کلام میں خوشخبری

عبرانی کَلاَم اور نیا عہد نامہ، یہ دونوں کَلاَم کتابوں کے دارالکتب ہیں جو مختلف مصنفوں نے مختلف وقتوں میں لکھیں تھیں۔ جو کتابوں کی چھپائی کی ایجاد سے بہت پہلے لکھی گئیں تھیں۔ اُس کے بعد اِن کتابوں کی نقلیں تیار کی گئیں۔

آج نیا عہد نامہ مکمل بھی اور ٹکڑوں میں بھی بہت سے قدیم ہاتھ سے لکھے ہوئے حصوں میں پایا جاتا ہے جو کہ کوئی اور کتاب نہیں پائی جاتی۔ یسوع پر ظلم کیے گئے، وہ مرا اور 30-33 اے ڈی کے دوران وہ پھر سے زندہ ہوا تھا۔ ہمارے پاس یوحنّا کی انجیل کے حصے ہیں جو 130 اے ڈی میں لکھے گئے تھے۔ ہمارے پاس نئے عہد نامہ کی کتابوں کے حصے ہیں، جو کہ اُس کی اصل زبان عبرانی میں ہیں، جو کہ 200-325 اے ڈی کی تاریخ کو ظاہر کرتیں ہیں، جن کی تعداد 5600 ہے۔ ہمارے پاس نیا عہد نامہ ہے جن کا مختلف زبانوں میں ترجمہ موجود ہے وہ سب 400 اے ڈی یا 19,00 سے پہلے کی تاریخ کو ظاہر کرتیں ہیں۔ جو 24,600 کَلام کی کتابوں کو ظاہر کرتیں ہیں جو مسیح کی وفات کے 370 سالوں کے دوران لکھی گئیں۔

اب جب لوگ اِن کتابوں کی نقلیں تیار کرتے ہیں، البتہ وہ جتنی مرضی کوشش کرلیں، وہ اُن کی نقل تیار کرنے میں غلطی کر سکتے ہیں۔ جس میں کسی الفاظ کی غلطی یا کوئی جملہ یا الفاظ بھی چھوٹ سکتا ہے۔ اِن سب کے لئے ہمارے پاس بہت سے علماء کرام ہیں جو اِس پر نظر رکھتے ہیں کہ جب کوئی غلطی آئے تو ہم اُسے ٹھیک کر دیں۔ اِن سب کا موازنہ کرنے کے ساتھ اِن سب کو جمع کیا جا سکتا ہے، جہاں پر اِنہیں تقریباً اِن کے نسخہ کے مطابق یکجا کیا جا سکتا ہے۔

اِن غلطیوں کو اِن کی حد تک دیکھنا سب سے دلچسپ بات ہے۔ اُن کا اثر بہت کم ہوتا ہے۔ اُس میں کسی ایک شک کی گنجائش بھی نہیں چھوڑی جاتی ہے۔ علماء کرام یہ کہتے ہیں کہ نیا عہد نامہ کسی بھی الفاظ کی غلطی کے بغیر دوبارہ تیار کیا جا سکتا ہے۔ خُدا کا کَلاَم درست کاریگری کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے۔ تو ہم اِس بات پر یقین رکھ سکتے ہیں کہ آج جو ہمارے پاس نیا عہد نامہ ہے وہ اُن اصل کتابوں کے بہت قریب ہے جو 1900 سال پہلے لکھی گئیں تھیں۔

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ نیا عہد نامہ تبدیل کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو، ہم جغرافیائی طور پر کَلام اور اُس کے ترجمے کا جائزہ کرنے کی توقع رکھیں گے جو کہ بہت مشکل چیزیں بیان کرتے ہیں۔ لیکن ہزاروں کَلاَم کی کتابوں میں سے کسی ایک میں بھی ایسی غلطی نہیں پائی گئی۔ تو یہ یقین کے ساتھ عام الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ جس طریقے سے یہ کتابیں بنتی ہیں اور گردش کرتی ہیں وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ نئے عہد نامہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اِس قدیم کَلاَم کا ثبوت بھی ہونا چاہیے۔ لیکن پوری دُنیا میں مختلف دارالکتب اور ذاتی مجموعوں میں محفوظ کی گئیں 24,600 پرانی کلام کی کتابوں میں کبھی کوئی غلطی نہیں پائی گئی۔

تو جو انجیل آج آپ پڑھ سکتے ہیں وہ وہی انجیل ہے جو شروع میں تھی۔ اُنہوں نے اِن کتابوں کو سادہ طریقے سے کیوں لکھا؟ کیونکہ وہ اِس بات کے ثبوت پر یقین رکھتے تھے کہ یسوع وعدہ کردہ مسیحا ہے۔


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

جیسا کرو گے ویسا بھرو گے

Next post

زندگی دینے والا پانی کا بپتسمہ

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.