بلاگخوش آمدید

کیا ہم دوسرے خداؤں کی پرستش کر کے یسوع کو دھوکا دیتے ہیں؟

حال ہی میں ہم نے ہمارے مسیحی رہنماؤں کو دوسرے مذہبوں کے عبادت خانوں میں جاتے دیکھا۔ اُنہوں نے دوسرے مذہبوں کے کلاموں کو چوما اور اُن کو جلال پیش کیا۔ البتہ کیا ہمارا خدا ہمیں یہ سب کرنے کی اجازت دیتا ہے؟

خروج 20 باب 3 آیت: ” میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا”۔

دوسرے مذہبوں کے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے ہمارے رہنما اُن کے خداؤں اور تہواروں کو مانتے ہیں۔ وہ یہ سب اپنے فائدے کے لئے کرتے ہیں جس میں وہ صاف طور پر مسیح کا انکار کرتے ہیں۔ وہ اپنے اِس عمل سے نوجوان مسیحی نسل پر بُرا عصر ڈال رہے ہیں۔

1تیمتھیس 4 باب 1 آیت: ” لیکن رُوح صاف فرماتا ہے کہ آیندہ زمانوں میں بعض لوگ گُمراہ کرنے والی روحوں اور شیاطین کی تعلیموں کی طرف مُتوّجہ ہو کر ایمان سے برگشتہ ہو جائیں گے”۔

روح القدس نے صدیوں پہلے اِس بارے میں پیشن گوئی کی تھی کہ بہت سے لوگ اپنے ایمان سے دور ہو جائیں گے۔ خداوند یسوع مسیح نے بھی ہمیں پاک اور ناپاک کے بارے میں اِس آیت میں سکھایا ہے:

1 یوحنا 4 باب 1 سے 3 آیت: ” اے عزیزو! ہر ایک رُوح کا یقین نہ کرو بلکہ رُوحوں کو آزماؤ کہ وہ خدا کی طرف سے ہیں یا نہیں کیونکہ بہت سے جھوٹے نبی دُنیا میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ خدا کے روح کو تم اِس طرح پہچان سکتے ہو کہ جو کوئی روح اقرار کرے کہ یسوع مسیح مُجسم ہو کر آیا ہے وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اور جو کوئی روح یسوع کا اقرار نہ کرے وہ خُدا کی طرف سے نہیں اور یہی مخالف مسیح کی روح ہے جس کی خبر تم سُن چکے ہو کہ وہ آنے والی ہے بلکہ اَب بھی دُنیا میں موجُود ہے”۔

ہمارے نجات دہندہ یسوع مسیح نے ہمیں جھوٹے نبیوں کے بارے میں پہلے سے ہی آگاہ کر دیا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی ہمارے رہنما اِس پر عمل نہیں کرتے۔

2 کرنتھیوں 11 باب 13 سے 14 آیت: ” کیونکہ ایسے لوگ جھوٹے رسول اور دغابازی سے کام کرنے والے ہیں اور اپنے آپ کو مسیح کے رسولوں کے ہمشکل بنا لیتے ہیں”۔

کیا اپنے عمل سے ہمارے مسیحی رہنماؤں کو شیطان کے رستے پر چلنا اور جھوٹے نبیوں کو ماننا چاہیے؟

لوقا 6 باب 39 آیت: ” اور اُس نے اُن سے ایک تمثیل بھی کہی کہ کیا اندھے کو اندھا راہ دکھا سکتا ہے؟ کیا دونوں گڑھے میں نہ گریں گے؟”۔

ہمارے رہنما مسیحیوں کے لئے کیسی مثال پیش کر رہے ہیں۔ وہ جو مسیح پر مکمل ایمان رکھتے ہیں اُنہیں اِن بُری مثالوں پر عمل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ لوگ صفید لباس میں بھیڑیے ہیں۔ یہ جو اپنے آپ کو رہنما کہتے ہیں یہ اپنے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرتے ہیں۔ اِن کو خدا کے کلام پر عمل کرنا چاہیے۔ اُن کا مقصد صرف اپنا فائدہ ہے۔ ایک مسیحی ہوتے ہوئے ہمیں مقدس بائبل کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے اور اُس سچائی پر قائم رہیں جو مسیح نے ہمارے سامنے پیش کی ہے۔ آمین!


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

کلام مقدس ہمیں بیویوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے؟

Next post

مسیحیت اور مسیح کا مزاق اُڑایا جانا

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.