انتھونی سنتیاگوخوش آمدیدویڈیوز

بپتسمہ: خداوند کی فرمابرداری کا پہلا قدم

جب مسیح اور اُن کی تعلیم پر عمل کرنے کی بات آتی ہے، تو مسیح نے سب سے پہلے بپتسمہ لیا تھا۔ اِس سب میں مَیں نے یہ پایا کہ خدا کے اکلوتے بیٹے نے بہت عاجزی سے یوحنا سے بپتسمہ لیا۔ میں نے اِس میں یہ بات دلچسپ پائی کہ بعد میں ہم اُن کی زندگی میں یہ دیکھتے ہیں کہ وہ پانی پر چلنے کے قابل تھے اور جو عاجزی جو بپتسمہ کے ذریعے آتی ہے، جس میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یسوع مسیح اُس چیز کے ذریعے بپتسمہ حاصل کرتے ہیں جس پر وہ چلے تھے جو کہ پانی ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بپتسمہ روحانیت کا عمل ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ہم خدا سے یہ اقرار کرتے ہیں: ” اے خدا میں اپنے آپ کو تیرے حوالے کرتا ہوں۔ میں تیرا ہونا چاہتا ہوں۔ میں اپنے آپ کو اُس سب میں مکمل طور پر منسوب کرنا چاہتا ہوں جو تو میرے لئے چاہتا ہے”۔

تو جب یسوع مسیح بپتسمہ لے رہے تھے تو اُنہوں نے دُنیا کو یہ ظاہر کیا کہ وہ خدا کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ جی ہاں یقیناً طور پر وہ خدا کے حکم پر عمل کر رہے تھے جو حکم خدا اُنہیں دے رہا تھا۔ یہ بھی یسوع مسیح کی طرف سے عاجزی کا عمل تھا۔ لیکن جب ہم بپتسمہ لینے کو چُنتے ہیں تو ہم بھی یسوع مسیح کی طرح روحانیت اور عاجزی کا عمل کر رہے ہوتے ہیں۔

ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ہم مسیح کی پیروی کر رہے ہیں، ہم اُن کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، ہم اُن کی مثالوں پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اِس سے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ہم زندگی کے اختیار میں نہیں ہیں، کہ چاہے ہم کام پر جاتے ہوں، گاڑی چلاتے ہوں یا ہمارا یہ یا وہ گھر ہے، بلکہ ہم یہ قبول کرتے ہیں کہ ہم عاجزی کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور ہم خدا کے حکموں پر عمل کریں گے۔

تو اگر آپ بپتسمہ لینے کو چُنتے ہیں یا شاید آپ نے پہلے کبھی بپتسمہ لیا ہے تو میں آپ کی حوصلہ افزائی کرونگا کہ آپ یسوع مسیح کی دل سے پیروی کریں اور یہی بپتسمہ کے سہی معنی ہیں۔ جس کے ذریعے آپ میں عاجزی اور روحانیت آتی ہے۔ آپ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ خدا کے قریب ہیں اور آپ خدا سے یہ کہتے ہیں کہ اے خدا میں اپنا سب کچھ تجھے دیتا ہوں۔ میں بپتسمہ کے ذریعے اپنی ساری زندگی تجھے دیتا ہوں۔ آمین!

انتھونی سنتیاگو


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

کیتھولک پادری شادی کیوں نہیں کرتے؟

Next post

جھوٹے نبیوں اور اُن کی تعلیمات سے ہوشیار رہیں

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.