بلاگخوش آمدید

ایک پاکستانی مسلمان کا اسلام سے مسیحیت تک کا سفر

ایک پاکستانی مسلمان کا اسلام سے مسیحیت تک کا سفر

 تھمّتھیس(1) باب 1 آیت 12: ” میں اپنے طاقت بخشنے والے خداوند مسیح یسوع کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے دیانتدار سمجھ کر اپنی خدمت کے لئے مقرّر کیا “۔

آج میں ایک ایسے شخص کی آپ بیتی آپ سب تک پہنچانا چاہتی ہوں جو کچھ ماہ قبل مسیحی نہیں تھا. سچ جاننے کے بعد پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اس شخص نے اسلام کو چھوڑنے کی ہمت کی جو کہ بہت ہی زندہ دلی والا کام ہے، وہ بھی ایسے ملک میں جہاں اسلام کا انکار کرنا یوں مانو جیسے موت کو دعوت دینا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ؛ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو زور زبردستی کی بنا پر ہمیں نمازیں ادا کرنے اور روزے رکھنے کے لئے مجبور کرتا ہے. میں جس جگہ کام کرتا تھا وہاں میرے کچھ دوست مسیحی گھرانے سے تھے. ان کا مزاج، ایماندار رویہ اور نرم اخلاقی مجھے بہت پسند آنے لگی. کچھ ہی عرصے میں میرا ان کے گھرانے سے بھی تعلق مضبوط ہوتا گیا۔

میں اپنی زندگی میں بہت سے ذاتی مسائل میں الجھا ہوا تھا. زہنی سکون ختم ہو چکا تھا. ایک دن میں اپنے مسیحی دوست سے ملاقات کے سلسلے میں جب ان کے گھر پہنچا تو وہاں مسیحی عبادت ہو رہی تھی. پادری صاحب بائبل کی آیت کا حوالہ دے کر پیغام دے رہے تھے. اخلاقی طور پر میں بھی عبادت میں شریک ہو گیا. پادری صاحب کا وہ کلام سنانا مجھے بہت ہی اچھا لگنے لگا. جب کلام ختم ہونے کے بعد انہوں نے ہم سب کو سر جھکانے اور آنکھیں بند کرنے کو کہا تو میں نے بھی اپنے سر کو جھکایا اور احترام میں آنکھوں کو بند کیا۔

اور جیسے ہی پادری صاحب نے دعا شروع کی چند منٹ بعد میرے لب یوں مانو جیسے کچھ کہنا چاہتے ہوں، میرا دل اس روحانی ماحول میں خدا سے کچھ مانگنے کی خواہش کرنے لگا. میں نے بھی وہاں موجود دوسرے مسیحیوں کی طرح اپنے دل میں خدا کو پکارا اور اس دن زندگی میں پہلی دفع میں نے اس روحانیت سے بھرے ماحول میں خدا کی موجودگی کو محسوس کیا. میری آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے، میں منہ کھول کر خدا کو پکارنے لگا اور رونے لگا کہ اے خدا مجھے سمبھال. نہ جانے کیسے قدرتی طور پر یہ الفاظ میرے ہونٹوں سے نکلنے لگے اور میری آنکھوں سے آنسو زار زار بہنے لگے۔

اس وقت پادری صاحب نے میرے سر پر اپنا ہاتھ رکھا اور کہا صبر رکھو آج خدا کے آگے اپنا ہر دکھ درد رکھ دو. وہ ایسا روحانی سکون تھا جو مجھے اس دن سے پہلے کبھی اسلام اور عربی زبان میں پڑھنے والی نمازوں میں نہ ملا تھا. وقت کے ساتھ ساتھ میں مسیحیت کو اور جاننے لگا، اپنے گھر والوں سے چھپ کر بائبل مقدس پڑھنے لگا۔

اور مسیح یسوع کے فضل سے آج میں بائبل کی منادی کرتا ہوں. جو دلی سکون مجھے مسیحیت میں ملا، جو سچائی کا راستہ مجھے یسوع مسیح کی تعلیم کو پڑھ کر اور سمجھ کر ملا وہ مجھے کبھی بھی ایک غیر زبان میں زبردستی پڑھائی جانے والی نمازوں سے نہیں ملا تھا. میں چاہتا ہوں کہ وہ سب لوگ جو مذہبی و روحانی طور پر گمراہ ہیں مسیحیت میں آئیں اور جو روحانیت اور ذہنی سکون میں نے مسیحیت میں حاصل کیا وہ بھی اسے پا سکیں. آج میں اپنی زندگی میں متمعین ہوں خوش ہوں اور ایک سچا مسیحی بننے اور خدا کے کلام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلانے کی جدوجہد میں جی جان سے لگا ہوں. میری زندگی میں آئے اس ایک بدلاؤ نے اور میرے سہی وقت پر لئے گئے ایک فیصلے نے آج مجھے فخر سے یہ کہنے لائق بنایا کہ میں اس یسوع مسیح کا بیٹا ہوں جو زندہ اور سچا خدا ہے اور جس کے سہارے کے بغیر کوئی بھی ابدی زندگی کا حصّہ نہیں بن سکتا ہے. آمین. جے یسوع کی!

متی باب 11 آیت 28: ” اے محنت اٹھانے والوں اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگوں سب میرے پاس آو. میں تم کو آرام دونگا “. آمین!


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

خدا یا اللہ ؟

Next post

مصیبت کے وقت کی دُعا

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.