خوش آمدیدرفیق مسیحویڈیوز

کیا پاکستان نے مسیحیوں کے ساتھ وفا کی؟

کیا پاکستان نے مسیحیوں کے ساتھ وفا کی؟

میں ایک پاکستانی مسیحی ہوں۔ پاکستان میرا ملک ہے۔ پاکستان میری جان، میرا فخر اور میری پہچان ہے۔ اِس ملک کے لئے میں ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔ اِس ملک کی عزت میری عزت ہے۔

اِس ملک سے مجھے بے پناہ مُحبت ہے۔ کیونکہ یہ میری سر زمین ہے۔ لیکن کیا پاکستان کو بھی مجھ سے اُتنی ہی مُحبت ہے؟ کیا پاکستان بھی مجھے اُسی طرح دل و جان سے چاہتا ہے جیسے میں اِسے چاہتا ہوں؟ کیا پاکستان بھی میری حفاظت کے لئے کوئی بھی قربانی دینے کے لئے تیار ہے؟ شاید اِس سوال کا جواب مجھے دینے کی ضرورت نہ پڑے۔ کیونکہ آپ سب کو پتا ہے کہ پاکستان میں مسیحیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اُن کے ساتھ کس طرح نسلی امتیاز رکھا جاتا ہے۔ اُن پر کس طرح تشدد کیا جاتا ہے اور کس طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر اُن کو مار دیا جاتا ہے۔ اُن کے گھروں کو بھی جلا دیا جاتا ہے۔

کیا پاکستان اِسی لئے بنایا گیا تھا کہ انتہا پسند مسلمان اقلیتوں پر ظلم کریں؟ اور اُنہیں اُن کے حقوق سے محروم رکھیں؟ کہ مسیحیوں کو دوسرے درجے کے شہری ہونے کا احساس دلائیں؟ جس میں اُن سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیں؟ اِس سے بہتر یہ نہ تھا کہ پاکستان بنتا ہی نہ تاکہ کسی کو اقلیت بننے پر مجبور نہ ہونا پڑتا! کسی کو غیر مسلمان ہونے پر شرمندگی محسوس نہ کرنی پڑتی اور کوئی غیر مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنی زندگی کو نہ کھوتا۔

اے پاکستان تو نے مسیحیوں کے ساتھ وفا نہیں کی! تو نے مسیحیوں کے درد کو، اُن کی تکلیف، دِل کی آواز اور اُن کی خواہشات کو نہیں سمجھا۔ اے پاکستان تو نے اپنے ہی آئین کو ںظرانداز کیا! جو مسیحیوں کو برابری کا حق دینے کی بات کرتا ہے، لیکن کیا تو نے اُن کو وہ حق دیا؟ کیا تو نے اُن ظالم لوگوں سے مسیحیوں کی حفاظت کی؟ جو کسی بھی جھوٹے بہانے سے مسیحیوں کی زندگی، خواب اور اُن کے جذبات کچل دیتے ہیں۔ اے پاکستان تجھ پر مسیحیوں کا قرض رہے گا۔ تیرے سبز پرچم پر معصوم مسیحیوں کے خون کے دھبے ہمیشہ نُمایا رہیں گے۔ اے پاکستان تو نے میری مُحبت کا جواب مُحبت سے کیوں نہیں دیا؟

اے پاکستان کیوں؟ آخر کیوں؟۔۔


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

قائدِ اعظم اور علامہ اقبال کے پاکستان میں مسیحی قوم کا حال

Next post

This is the most recent story.

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.