بلاگخوش آمدید

اِسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک کافر کی زندگی

اسلام کے چھوڑنے والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے اسلام کو چھوڑ کر جہنم کا راستہ چُنا ہے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، اُنہوں نے اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچا لیا ہے۔ پَاکِستَان کی شناخت ایمان پر مبنی ہے۔ یہ واحد ملک ہے جو ایمان پر پایا جاتا ہے۔ اگرچہ جیسے اسرائیل یہودی کہلاتے ہیں، یہ ہمیشہ سے لادینی معاشرہ تھا۔ اگر آپ مذہب کو دور کر دیں تو پَاکِستَان کا نظریہ بہت کمزور ہے اور لہٰذا لوگ کسی بھی آگاہی کے بغیر عقائد اور قومی شناخت پر ہر وقت تضاد کر سکتے ہیں۔ مذہبی اور مذہبی دہشت گردی کے حوالے سے پَاکِستَان کا جنون ایسا ہے کہ جسے ماہرین بھی واضح نہیں کر سکے۔

اسلام کے مرتکب اکثر “اسلام سے غداری” کو چھپاتے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کو سکون سے رہنے دیا جائے۔ اِس طرح کے مذہبی معاشرے میں اسلامی مباحثوں کو نظرانداز کرنا بہت مشکل ہے چاہے کوئی کتنی بھی کوشش کر لے۔ بہت سے آزاد خیال مسلمان جو قرآن کو اُس کے ترجمے کے ساتھ پڑھتے ہیں اُنہیں عربی کے پیچھے چھپی ہوئی اصل حقیقت جاننے سے روکا جاتا ہے۔ آزاد خیال مسلمان اِس بات کا دفاع کرتے ہیں کہ قرآن مجید حقائق کی طرف سے ارتکاب کے بارے میں اور سزا کو کم کرنے کے بارے میں کیا کہتا ہے لیکن یہ قرآن میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اُن لوگوں کو قتل کیا جائے جو اسلام کو چھوڑتے ہیں۔

سنت اِینسائی حوالہ 5، کتاب 37 حدیث 4053: حضرت محمدؐ نے فرمایا کہ “کسی مسلمان کا خون بہانہ جائز نہیں سوائے تین صورتوں کے: ایک شادی شدہ شخص جس نے زنا کیا، اُسے قتل کرنا واجب ہے، وہ شخص جس نے جان بوجھ کر کسی دوسرے شخص کا قتل کیا، اُسے قتل کرنا واجب ہے؛ اور وہ شخص جس نے اسلام کو چھوڑا اور اللہ جوَ منفرد اور طاقت والا ہے اور اُس کے پیغمبرؐ کے خلاف جنگ شروع کی یا اُسے قتل کیا جائے یا اُسے مصلوب کیا جائے یا اُسے ملک سے نکال دیا جائے”۔ بہت سے مسلمان مسیح کو دل سے قبول کرتے ہیں لیکن بپتسمہ حاصل نہیں کر پاتے اور مسیحی دُعائیں بھی نہیں کر پاتے کیونکہ اُن کو اِس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ اُن کو بے رحمی سے مار دیا جائے گا۔

پَاکِستَان میں اسلام کو چھوڑنا صرف ایک مذہب کو چھوڑنا نہیں ہے بلکہ یہ ایک پورے خاندان کو چھوڑنے کے برابر ہے، جیسے پورے معاشرے سے ختم ہو جانا! اور اِس بات کا خطرہ کہ وہ مذہبی اور انتشار پسندہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔ یہ مسلمان خاندانوں کے لئے شرم کی بات ہوتی ہے کہ اگر اُن کا اسلام کے چھوڑنے والوں کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ بہت سے لوگ چھُپ کر مسیحی دُعائیں کرتے ہیں لیکن اگر کوئی دھوکہ کرتے ہوئے پایا جاتا ہے تو اُنہیں سزا دی جاتی ہے اور جہاں تک ہو سکے اُنہیں جلا دیا جاتا ہے یا پھر اُنہیں بجلی کے جھٹکے دے دے کر بھی مار دیا جاتا ہے۔

یہ ایک تعصب والی بات ہے کہ قرآن اور مذہب پَاکِستَان کے معاشرے کو یہ سکھاتے ہیں کہ سزا کو اور درد ناک موت میں بدل دیا جائے۔ اِسے دوسروں کے لئے مثال سمجھا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی مسیحیت کو قبول کرنے کے بارے میں بھی نہ سوچے۔ یہ خوف مسلمانوں کو اِس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ وہ مسیحیت پر تحقیقات کریں۔ وہ جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں اُس پر ایمان لانے سے نہ گزیر ہو جاتے ہیں کیونکہ اُن کے پریشان ذہن اِس بات کو جانتے ہیں کہ اُنہیں معاشرے، خاندان اور اللہ کی طرف سے درد ناک عذاب ملے گا۔ 


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

کیا مسلمانوں کا خدا کے ساتھ تعلق ہے؟

Next post

ایسٹر اتوار یا یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کا دن؟

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.