کیا آپ یسوع کو جاننا چاہتے ہیں ؟

وقت مشکل ہوتا جا رہا ہے – لالچ بڑھتا جا رہا ہے

کوئی بھی نہیں کہتا کہ زندگی آسان ہے

پر خدا ہمیں کبھی فکرمند نہیں  ہونے دیتا. جب ہم چوٹی کی اونچائی پر ہوتے ہیں تو وہ کبھی ہمیں گرنے نہیں دیتا. اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بھیجا تاکہ ہمیں تباہ ہونے اور کچلے جانے سے بچا سکے

لیکن یہ اکلوتا بیٹا ہے کون ؟ اور آپ اس کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ کیا یسوع مسیح خدا کے بیٹے ہیں؟ کیا آپ یہ جاننا پسند کریں گے کہ وہ حقیقت میں کون تھا؟ اور اس نی ہمیں کیسے بچایا؟ کیا وہ ہمیں آج بھی بچاتا ہے؟ کیا آپ خداوند یسوع مسیح کو جاننا چاھتے ہیں ؟

بہت کم  لوگ اس بات سے انکار کریں گے  کہ  یسوع مسیح تاریخی اعدادو شمار ہیں.انسانیت پر انکا جو اثر تھا اور آج بھی ہے وہ ناقابل فتح ہے .تمام مغربی تاریخی  نظام یسوع مسیح کی  سچائی اور ان کے ہونے کی  گواہی دیتا ہے، جسکی وجہ سے زمین پر رہنے والے  زیادہ تر لوگ  یسوع مسیح کو جانتے ہیں. لکین حقیقت میں یہ شخص کون تھا ؟ اور ِاسکی زندگی اور موت کی اہمیت کیا تھی؟ کیا یہ صرف مذہبی استاد تھا یا اِس سے بڑھ کر کچھ اور تھا ؟ اور ہمیں اِس کے بارے میں کیا پتا ہونا چاہیے؟

بہت سے لوگ یسوع مسیح کو ایک اچھا انسان ، اچھا استاد ، اور یہاں تک کے خدا کا نبی تسلیم کریں گے. یسوع  کے بارے میں  یہ چیزیں  یقینی طور پر سچ ہیں. لیکن بائبل ہمیں یہ بتاتی ہے کہ  یسوع مسیح جسمانی اور روحانی صورت میں خدا کے بیٹے ہیں. خداوند یسوع مسیح زمین پر ہمیں تربیت دینے ، شفا دینے ، درست کرنے اور ہمارے لئے اپنی جان قربان کرنے کے لیے آےّ تھے. خداوند یسوع مسیح ہمیں بنانے والا اور ہمارا یہواہ خدا ہے. خدا کا بیٹا زمین پر بھیجا گیا تھا تاکہ انسان اور خدا کے درمیان پیدا ہو چکی  دیوارکو ختم کیا جاسکے . انہوں نے بہت سادہ اور گناہوں سے پاک  زندگی بسر کی اور کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا.انہوں نے اپنا سارا وقت خدا کے پیغام کے زریعے لوگوں کی زندگیاں بدلنے میں صرف کر دیا. انہوں نے محض   تین  سال میں  دنیا کو بدل دیا جبکہ  کوئی اور نبی یا تاریخی شخصیت  ایسا کام  نہیں کر سکی. آخرکار یسوع مسیح ہی اس کائنات کے مالک ہیں . یسوع کی موت کے دو ہزار سال بعد بھی شیطان اُن کے نام سے ڈرتا ہے اور بہت سے اُن کا نام سن کر کانپ جاتے ہیں. دنیا میں کوئی ایسا دوسرا نام  نہیں ہے جس میں خداوند یسوع کے نام جتنی قوت پائی  جاتی ہو. آمین


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone