خوش آمدیدویڈیوزپَاکستانی مسیحی تھائی لینڈ

تھائی لینڈ میں ایک پاکستانی مسیحی ماں کی حالت زار – طبی امداد کی فوری ضرورت

دہائیوں کی مذہبی عدم برداشت، مذہبی امتیاز، عدم مساوات، اور ظلم کے بعد پاکستان وجود میں آیا. ملک کے بانی نے کہا تھا کہ اس سر زمین کے ہر شہری کو برابری کے حق ملیں گے. ایک ایسا ملک جو اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے بنایا گیا تھا اپنے وجود کے صرف 69 سالوں میں دنیا میں اقلیتوں کو ہراساں کرنے والے سب سے اوپر چھ ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں ستایا جاتا ہے لیکن مسیحیوں کو سب سے زیادہ اور روزانہ اپنے عقیدے کے سبب سے امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے. پاکستانی مسیحیوں کے پاس امن کے ساتھ رہنے کا واحد راستہ ملک سے ہجرت کرنا ہوتا ہے، خاص طور پر تھائی لینڈ، جہاں پہنچنا کافی آسان ہے۔

لیکن ظلم و ستم سے بھاگنا اور پھر ظلم و ستم کا ہی سامنا کرنا تھائی لینڈ میں جلاوطنی کی زندگی جی رہے پاکستانی مسیحیوں کی قسمت بن چکا ہے. وہ اپنی شناخت، اپنا ملک، اپنا گھر، اپنے لوگ اور اپنے خواب چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے ایک ایسے ملک میں پناہ لینے کے لئے گئے جو انہیں صرف غیر قانونی تارکین وطن کا درجہ دیتا ہے. اقوام متحدہ کا دیا پناہ گزین سرٹیفکیٹ کوئی اہمیت نہیں رکھتا جب تھائی لینڈ کے حاکمین ان کے ملک میں رہنے کے قانونی درجے پر سوال اٹھاتے ہیں. تھائی لینڈ کے قانون کے مطابق پاکستانی مسیحی پناہ گزینوں کو وہاں رہنے یا کام کرنے کی اجازت نہیں ہے. اگر بدقسمتی سے کبھی کسی کو گھر سے یا سڑک پر چلتے ہوئے گرفتار کر لیا جائے تو اسے امیگریشن کے حراستی مرکز لے جایا جاتا ہے۔

کام کئے بغیر ان کے پاس آمدنی کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہوتا ہے کہ وہ خوراک، ادویات، رہنے اور تعلیم کا خرچ برداشت کر سکیں. ظلم و ستم اور مسائل کا صرف نام تبدیل ہو گیا ہے لیکن ان کے سائز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے. جس دوران تیسرے ممالک میں بھیجے جانے کی ان کی درخواست پر غور کیا جاتا ہے، تھائی لینڈ میں واقع پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی طرف سے ان ستائے ہوئے مسیحیوں کو 6-7 سالوں کے اندھیرے میں چھوڑ دیا جاتا ہے جو ان کی بے شمار مشکلات کو کم نہیں کرتا بلکہ صرف ان میں اضافہ کرتا ہے۔

آج اس ویڈیو کے ذریعے ہم صرییا کی مشکلات کے بارے میں جانیں گے جو کہ ایک پاکستانی مسیحی ماں ہیں. کچھ سال پہلے صرییا اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان چھوڑ کر پناہ کی درخواست دینے کے لئے تھائی لینڈ آئی تھیں لیکن وہ نہیں جانتی تھیں کہ تھائی لینڈ پہنچ کر ان کے مصائب کا اختتام نہیں بلکہ ان کی ایک نئی شروعات ہونی ہے. خاص طور پر یہ لمحہ ان کے لئے ایک سخت آزمائش کی طرح ہیں کیونکہ ایک حادثے میں ان کی بازو ٹوٹ چکی ہے اور انہیں فوری طور پر سرجری کی ضرورت ہے جس کا ان کے پاس اس وقت کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

ان مشکل حالات میں ہمیں مسیح میں صرییا کے بہن بھائی ہونے کے ناطے ان کی مدد کرنی چاہئے تاکہ وہ کام کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں، ان کی دیکھ بھال کر سکیں اور وقار اور احترام کے ساتھ بغیر کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے اپنی زندگی کی گاڑی کو چلا سکیں. یسوع نے دعا کی تھی کہ ہم سب مسیحی ایک ہوں جس طرح وہ اور اس کا خدا باپ ایک ہیں. اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں مسیحی ہوتے ہوئے ایک دوسرے کی عملی مدد کرنی چاہئے نہ کہ صرف باتیں. آئیے ہمارے ساتھ مل کر اپنی مسیحی بہن کی مدد کرنے کے لئے قدم بڑھائیے. فوری طور پر سرجری کے لئے صرییا کو $ 1،500 کی رقم کی ضرورت ہے. خدا یسوع آپ سب کے دلوں کو صرییا کی مدد کرنے کے لئے بڑا بنائے. آپ کا بہت بہت شکریہ. یسوع مسیح کی جے ہو. آمین!


ShareShare on FacebookTweet about this on TwitterShare on Google+Email this to someone
Previous post

یسوع مسیح مسلمانوں کے لئے تنظیم کا بینکاک، تھائی لینڈ میں بائبل اسکول کا افتتاح

Next post

پاکستان میں مسیحی قوم - حقوق، عزت اور وقار کے لئے جنگ

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Time limit is exhausted. Please reload CAPTCHA.